ABOUT HIM

محمود اشرف عثمانی
صاحب (مدالله تعالٰی ظلہ الکریم بالصحةوالعافية،آمین )
جامعہ دارالعلوم کراچی کے مفتی اور دورہ حدیث و تخصص فی الافتاء کے استاد اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

الحمد لله رب العالمین،والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاءوالمرسلین وعلی آله وصحبه اجمعین۔

اما بعد!

حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مدالله تعالٰی ظله الکریم بالصحة والعافية بروز پیر 8 شعبان 1370ھ بمطابق 14 مئی 1951ء  کو پاکستان کے شہرلاہور میں پیدا ہوئے۔

خاندانی پس منظر

حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےوالد ماجد کا نام مولانا “محمد زکی کیفی ” رحمہ اللہ علیہ تھا جو کہ مفتی اعظم پاکستان “مولانامفتی محمد شفیع عثمانی  قُدس سرہ کے سب سےبڑے بیٹے تھے۔اُن کے والد جناب مولانا محمد یٰسین صاحب بن خلیفہ تحسین علی بن میاں جی امام علی بن حافظ کریم اللہ ہیں۔یہ سلسلہ نسب  بقول خاندان کےبڑے بزرگوں کے آخر میں خلیفہ راشد جناب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔

       حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کی والدہ ماجدہ حضرت  مولانا محمد مبین خطیب صاحبؒ کی بیٹی تھیں اور حضرت مولانا محمد متین خطیب صاحبؒ کی بہن تھیں۔(گویا اس طرح  مولانا محمد مبین خطیب صاحب، مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم  کے نانا  اور مولامحمد متین خطیب صاحب، مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم  کے ماموں ہوئے)۔

حضرت مولانا محمد مبین خطیب صاحبؒ ،خاندانی شاہی خطیب تھے،خطابت اُن کے خاندان میں اُس وقت شروع ہوئی تھی جب مغل باد شاہ شاہجہان نے اپنے وزیر مالیات شیخ لطف اللہ صاحب کو خطیب بنایاتھا۔ بعد میں اُن کی اولاد  در  اولاد میں مولانا محمدمبین خطیب صاحبؒ خطیب ہوئے،اور دار العلوم دیوبند کے علماءجن میں مولانامحمد قاسم نانوتویؒ اور مولاناسیدحسین احمدمدنیؒ جیسے بڑے علماء شامل تھے،اِن ہی کےپیچھے عیدین کی نماز وغیرہ پڑھتے تھے۔حضرت مولانا محمد مبین خطیب صاحبؒ “تحریک ریشمی رومال” میں حضرت شیخ الہند ؒ کےساتھ اس طرح شریک رہے کہ “آزادئ ہند” کے لشکر میں مولانا محمد مبین خطیب صاحبؒ  لفٹینٹ کےعہدہ سے جانے جاتے تھے۔

اور مولانامحمد مبین خطیب صاب ؒ کے بیٹے ،مولانامحمدمتین خطیب صاحبؒ  بڑے پائے کےعالم و خطیب اور مدرّس تھے۔اردو کالج اور کراچی یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔اور جامعہ دارالعلوم کراچی میں آخری عمر تک ناظم کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ مولانامحمدمتین

خطیب صاحبؒ  جمعیت علمائےاسلام ہند میں آزادی کےلئے اور پھر جمعیت علمائے اسلام پاکستان میں اسلامی دستور کی کوششوں میں ناظم اعلی کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔پاکستان کی آزادی کی تحریک میں علامہ شبیر احمد عثمانی صاحبؒ کےساتھ شانہ بشانہ شریک رہےجس کا اظہار علامہ شبیر احمد عثمانی ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ:

برادرِعزیز مولوی محمدمتین خطیب صاحب اگر میرے ساتھ ہر وقت تعاون نہ کرتے،تو نہ میں کام کرسکتا تھا اور نہ جمعیت علمائے اسلام کو فروغ حاصل ہوتا۔

حفظ قرآن

       حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم نےپہلے حضرت قاری افتخار احمد قیصر ر رحمۃ اللہ علیہ سے حفظ کی ابتداء کی پھر حضرت قاری رونق علی صاحب مدظلہم کے پاس حفظ کی تکمیل کی اور اُس کے بعد حضرت قاری عبد العزیز شوقی رحمۃ اللہ علیہ سےجمال القرآن اور باقاعدہ مشق پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔

درسِ نظامی جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد اور اساتذہ کرام

خوش نویسی اپنے والد ماجدمولانا زکی کیفی رحمۃ اللہ علیہ سے سیکھی نیز فارسی ادب کی کتابیں کریما، پندنامہ اور گلستان اپنے والد ماجد مولانا محمد زکی کیفی رحمۃ اللہ علیہ سے دکان ادارہ اسلامیات میں پڑھیں۔ وہ کاؤنٹر پر بیٹھتے تھےاور مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم اپنےوالدکے پاس جاکر سبق لیتے تھے۔ پھر گلستان جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد میں بھی مولانا مقبول الرحمن قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں۔

دارالعلوم الاسلامیہ میں حضرت مولانا محب النبی صاحب مدظلہم سے ابتدائی اسباق میزان الصرف وغیرہ سے ابتداء کی ۔ پھر اگلے سال جامعہ اشرفیہ منتقل ہوگئے۔

حضرت مولانا مقبول الرحمان قاسمی (قاضی آزاد کشمیر) ابتدائی دور میں حضرت مولانا مفتی محمود اشرف صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کے محبوب استاذ تھے جن کے نظم وضبط اُن کے وقار اور اندازِ تدریس سےحضرت سب سے زیادہ متاثرتھے۔ ان سے درسِ نظامی کے ابتدائی تین سالوں میں جو کتاب پڑھیں وہ اسی وقت محفوظ ہوگئی ۔ گلستان والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھ چکے تھے مگر مولانا مرحوم سے بھی دوبارہ پڑھی پھر ان حضرات کی برکت سے یہ سب فارسی کتابیں پڑھانے کا بھی موقعہ نصیب ہوا۔

حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ صاحبزادہ حضرت مفتی محمد حسن قدس سرّہ

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ مہاجر مکی۔

حضرت مولانا نور محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔

حضرت مولانا مشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ۔

حضرت مولانا وکیل احمدصاحب شروانی رحمۃ اللہ علیہ

جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن تا ١٩٧٠ء

حضرت مولانا رسول خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تلمیذ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ سے(جامع ترمذی) پڑھی۔

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ تلمیذ حضرت علامہ کشمیری سے (صحیح بخاری) پڑھی۔

حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تلمیذ حضرت سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے(ابوداؤد) پڑھی۔

حضرت مولانا محمد عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ تلمیذ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ وحضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے(طحاوی) پڑھی۔

حضرت مولانا عبدالرحمان اشرفی رحمۃ اللہ علیہ تلمیذ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے(صحیح مسلم)پڑھی۔

حضرت مولانا محمد يعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۔

حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔

اور 1390ھ /1970 میں حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم نے درس نظامی کی تعلیم مکمل فرمائی۔

وغيرہ رحمہم اللہ تعالیٰ جميعاً

تخصص فی الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی 1971ء ايک سال

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفيع صاحب قدس سرّہ

حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ جو اُس وقت تک کراچی دارالعلوم ہی ميں استاذ الحديث تھے۔

حضرت مولانا سحبان محمودصاحب رحمۃ اللہ علیہ

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفيع عثمانی مدظلہم العالی۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی۔

حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم نےجامعہ اشرفيہ لاہور ميں دو سال تدريس کے بعد 1973ء کے  آخر 1974ء اور 1975ء کی  ابتداء ميں جامعہ اسلاميہ مدينہ منوّرہ سعودی عرب ميں تقريباً ڈيڑھ سال تعليم حاصل کی۔اس دوران درج ذيل حضرات سے تلمّذ(شاگردی) نصيب ہوئی۔

الشیخ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز

الشيخ الدکتور محمد الطحان صاحب تيسير مصطلح الحديث

الشيخ الدکتور محمود رحمۃ اللہ علیہ ميرا

الشيخ الدکتور عبدالمحسن رحمۃ اللہ علیہ بن حمد العباد

… الشيخ الدکتور محمد الوائلی۔

نیزمسجد نبوی ميں حضرت الشيخ عطيہ رحمۃ اللہ علیہ سالم اور الشيخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ شيبۃ الحمدکے دروس ميں شرکت رہی۔

نیز مدینہ منورہ ميں اُس وقت جو اکابر مقیم تھے حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کوان کی مجلس ميں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی اُن ميں

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکريا قدس سرّہ کی خدمت ميں بعد نمازِ عصر بار بار حاضری نصیب ہوئی۔مسجد نبوی کے قريب مدرسہ علوم شرعيہ ميں حضرت کا قيام تھا۔

حضرت مولانا محمد آفتاب عالم صاحب صاحبزادہ حضرت مولانا بدرعالم ميرٹھی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت مولانا عبدالحق صاحب صاحبزادہ حضرت مولانا سيد عبدالغفور مدنی رحمۃ اللہ علیہ کبھی کبھار جانا ہوا۔

حضرت مولانا سعيد احمد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ، تبلیغی مرکز مسجد نور ميں حاضری نصیب ہوئی۔

حضرت مولانا عبدالقدوس صاحب رحمۃ اللہ علیہ رباط بنگال۔

حضرت قاری بشير احمد صاحب مدظلہم اور اُن کے گھر ميں رہائش پذير حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی سےحضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کا بہت گہرا تعلق رہا۔

ديگر اکابر اور اصحابِ فن سے استفادہ

لاہور ميں حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کا گھر” کا شانہ زکی”( محلہ اردو نگرملتان روڈ، نواں کوٹ  لاہور)اورانارکلی میں  دکان ”ادارہ اسلاميات”ہميشہ علماء اور مشائخ کے لئے اہم مرکز رہی ، حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم  کےوالد ماجد رحمۃ اللہ علیہ اور دادا مفتی اعظم پاکستان کی نسبت کی وجہ سے اکابر کی تشريف آوری ہوتی تو حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کو بھی زيارت وصحبت کا موقعہ ملتا۔ پھر بعض اکابر کی خدمت ميں حضرت کی حاضری بھی ہوتی رہی اور ان کی دعائيں ملتی رہيں، ان ميں:

(1)حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ، جو حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کے پڑوس “قصرِ سخاوت” ميں قيام فرماتے تھے۔ (2)حضرت سيد نفيس شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت ميں بار بار اور بکثرت حاضری وصحبت کا شرف بہت ملا، حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم  کواُن سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔(3) حضرت مولانا مفتی عبدالشکور ترمذیؒ کی خدمت ميں حاضری وصحبت کا شرف بھی بہت ملا، اُن کی شفقت حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم پر بہت رہی(4) حضرت مولانا عبيداللہ انور صاحب شير انوالہ گيٹ لاہور۔(5)حضرت مولانا اجمل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ قلعہ گوجر سنگھ لاہور۔

حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےگھرميں بطورِ مہمان قيام فرمانے والے حضرات

(1)۔حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کے نانا حضرت مولانا محمد مبین خطیب جو حضرت شيخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگرد اور معاون وخادم تھے ديوبند کی عیدگاہ کے خطیب تھے جہاں ديوبند کے تمام اکابر واصاغر عيدين کی نماز اِن ہی کی امامت ميں ادا کرتے تھے وہ آخر حيات ميں مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم گھر ميں مقیم رہے،مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم نے ان سے بہت کچھ سيکھا، ہمت ، سادگی، جفاکشی، تواضع و اخلاص ميں وہ اپنے استاذ ومرشد حضرت شيخ الہندرحمہ اللہ کانمونہ تھے۔

حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم  کےگھرميں بطورِ مہمان قيام فرمانے والے حضرات ميں:

(2)۔ مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کے سگے ماموں حضرت مولانا محمد متين خطیب جو اپنی ہمشیرہ یعنی مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کی والدہ سے ملنے آتے رہتے تھے اور ناظم آبادکراچی کی عيدگاہ کے خطيب تھے۔

(3)۔  حضرت مولانا محمد يوسف بنوری رحمہ اللہ تعالیٰ عليہ(دو بار)

(4) جناب مولانا ظفر احمد انصاری صاحب ، ممبر قومی اسمبلی ( مستقل مہمان)

(5)۔  جناب ماہر القادری صاحب ، مدير ماہنامہ فاران ( مستقل مہمان) شامل ہيں۔

ويسے بھی لاہور ميں مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کاگھر، کراچی اور ديوبند کے مہمانوں کے آنے جانے سے آباد رہتا تھا، خاندان کے تقريباً سب حضرات مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےوالد(جناب زکی کیفی )ؒ صاحب کے گھر ہی ميں قيام فرماتے تھے مفتی صاحب کےوالد صاحب مہمان نوازی ميں اپنی مثال آپ تھے والدہ رحمہا اللہ نے چھ بچوں کے مسائل اور اُن کی ديکھ بھال کے ساتھ ساتھ سب مہمانوں کے اکرام اور میزبانی ميں کبھی کوئی کمی نہيں کی،رحمہا اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ،آمین۔

حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےوالد صاحب کی کتابوں  کی دکان  ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور

1949ء میں حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےوالدجناب زکی کیفی صاحب ؒ نے “ادارہ اسلامیات” کے نام سےایک کتابوں کی دکان “انارکلی لاہور” میں کھولی تھی،اُن کے انتقال کے بعد اُن کے تینوں بیٹے اس کو دیکھتے ہیں،اب ماشاءاللہ “ادارہ اسلامیات” تین دکانوں پر مشتمل ہے۔

       جناب زکی کیفی صاحبؒ کے زمانےمیں ادارہ اسلامیات کی انارکلی والی دکان لاہور اوربيرون لاہور کی اہم شخصیات کا مرکز تھی عصر سے عشاء تک علماء اور شعراء کی آمد ہوتی ، ان کا مجمع رہتا ، مجلس جمتی۔شورش کاشمیری( مرحوم)، مولانا کوثر نيازی مرحوم اورحبيب جالب تو بکثرت آنے والوں ميں شامل تھے ان کے علاوہ معروف صحافی اور دانشور حضرات، جناب مصطفی صادق، جناب مجيب الرحمان شامی، جناب الطاف حسن قريشی، جناب اشفاق احمد تلقين شاہ ، ڈاکٹر محمد اجمل ماہر نفسيات، جناب کلیم عثمانیؒ  ،جناب نظر امروہویؒ۔ جناب ہوش ترمذی وغيرہ اور دوسرے اصحابِ فن اور اصحابِ دانش آتے رہتے اور مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ ان کی اداؤں شاعری اورانکی ادبی گفتگو سے محظوظ اور مستفيدہوتے رہتے تھے۔

لاہور ميں پاک ٹی ہاؤس کے بعد مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کی دکان سياست دانوں، صحافيوں، شعراء اور اديبوں کا سب سے بڑا مرکز تھا شايد ہی کوئی نامور ادبی شخصیت اور عالم دين ہو جس کی ملاقات اور قریبی استفادہ کا مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کوموقعہ نہ ملا ہو۔جناب مولانا مفتی محمد حسین نعیمی صاحب ؒ،جناب مولانا مودودیؒ صاحب، مولانا ابوبکر غزنویؒ، جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ اور ان جيسے مشاہیر کو بہت قريب سے ديکھنے اور ان کی باتيں سننے کا موقعہ ملا، ان سب حضرات کی،دکان کے علاوہ مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کےگھر بھی تشريف آوری ہوئی ہے

حضرت مولانامفتی محمود اشرف  صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ اپنی کتاب “احباب کےلئے مضامین تصوف”میں تفصیل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

“ان سب سے ملاقات کو میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ ان سب سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا۔ الحمداللہ اب بھی دورانِ تدريس اپنے طلبہ ساتھيوں سے کچھ نہ کچھ سيکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، اللہ تعالی ان سب کی خير ميرے لئے مقدر فرمائيں اور احقر کی نجات کا ذريعہ بنائيں آمين۔”

تدریس

       حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم نےجامعہ اشرفيہ لاہور ميں دو سال تدريس کے بعد پھر مدینہ تشریف لے گئے تھے۔پھر والد صاحب کے انتقال کے بعد پھردوبارہ جامعہ اشرفیہ میں تدریس فرماتے رہے،اور آہستہ آہستہ تمام علوم و فنون کی کتابیں پڑھاتے ہوئے موقف علیہ تک پہنچ گئے۔

جامعہ دار العلوم کراچی میں  تشریف آوری

1411ھجری/1990ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب  دامت برکاتہم کے بلانے جامعہ دارالعلوم کراچی تشریف لے آئے۔

اور  اب فی الحال جامعہ دار العلوم کراچی میں درس بخاری جلد ثانی کا درس فرماتے ہیں اور ساتھ ساتھ جامعہ میں ہی “مفتی  دارالافتاءجامعہ دارالعلوم”  کے عہدہ پر ہوتے ہوئے فتاویٰ کی تصحیح وفتاویٰ تحریر فرماتے ہیں۔تصحیح شدہ اور لکھے ہوئے فتاویٰ کی تعداد ایک لاکھ سے کافی زیادہ ہے۔

حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےوالد صاحب کی کتابوں کی دکان ” ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور
1949ء میں حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم کےوالدجناب زکی کیفی صاحب ؒ نے “ادارہ اسلامیات” کے نام سےایک کتابوں کی دکان “انارکلی لاہور” میں کھولی تھی،اُن کے انتقال کے بعد اُن کے تینوں بیٹے اس کو دیکھتے ہیں،اب ماشاءاللہ “ادارہ اسلامیات” تین دکانوں پر مشتمل ہے۔
جناب زکی کیفی صاحبؒ کے زمانےمیں ادارہ اسلامیات کی انارکلی والی دکان لاہور اوربيرون لاہور کی اہم شخصیات کا مرکز تھی عصر سے عشاء تک علماء اور شعراء کی آمد ہوتی ، ان کا مجمع رہتا ، مجلس جمتی۔شورش کاشمیری( مرحوم)، مولانا کوثر نيازی مرحوم اورحبيب جالب تو بکثرت آنے والوں ميں شامل تھے ان کے علاوہ معروف صحافی اور دانشور حضرات، جناب مصطفی صادق، جناب مجيب الرحمان شامی، جناب الطاف حسن قريشی، جناب اشفاق احمد تلقين شاہ ، ڈاکٹر محمد اجمل ماہر نفسيات، جناب کلیم عثمانیؒ ،جناب نظر امروہویؒ۔ جناب ہوش ترمذی وغيرہ اور دوسرے اصحابِ فن اور اصحابِ دانش آتے رہتے اور مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ ان کی اداؤں شاعری اورانکی ادبی گفتگو سے محظوظ اور مستفيدہوتے رہتے تھے۔
لاہور ميں پاک ٹی ہاؤس کے بعد مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کی دکان سياست دانوں، صحافيوں، شعراء اور اديبوں کا سب سے بڑا مرکز تھا شايد ہی کوئی نامور ادبی شخصیت اور عالم دين ہو جس کی ملاقات اور قریبی استفادہ کا مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کوموقعہ نہ ملا ہو۔جناب مولانا مفتی محمد حسین نعیمی صاحب ؒ،جناب مولانا مودودیؒ صاحب، مولانا ابوبکر غزنویؒ، جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ اور ان جيسے مشاہیر کو بہت قريب سے ديکھنے اور ان کی باتيں سننے کا موقعہ ملا، ان سب حضرات کی،دکان کے علاوہ مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کےگھر بھی تشريف آوری ہوئی ہے
حضرت مولانامفتی محمود اشرف صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ اپنی کتاب “احباب کےلئے مضامین تصوف”میں تفصیل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:
“ان سب سے ملاقات کو میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ ان سب سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا۔ الحمداللہ اب بھی دورانِ تدريس اپنے طلبہ ساتھيوں سے کچھ نہ کچھ سيکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، اللہ تعالی ان سب کی خير ميرے لئے مقدر فرمائيں اور احقر کی نجات کا ذريعہ بنائيں آمين۔”
تدریس:
حضرت مولانامفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم نےجامعہ اشرفيہ لاہور ميں دو سال تدريس کے بعد پھر مدینہ تشریف لے گئے تھے۔پھر والد صاحب کے انتقال کے بعد پھردوبارہ جامعہ اشرفیہ میں تدریس فرماتے رہے،اور آہستہ آہستہ تمام علوم و فنون کی کتابیں پڑھاتے ہوئے موقف علیہ تک پہنچ گئے۔
جامعہ دار العلوم کراچی میں تشریف آوری:
1411ھجری/1990ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے بلانے جامعہ دارالعلوم کراچی تشریف لے آئے۔
اور اب فی الحال جامعہ دار العلوم کراچی میں درس بخاری جلد ثانی کا درس فرماتے ہیں اور ساتھ ساتھ جامعہ میں ہی “مفتی دارالافتاءجامعہ دارالعلوم” کے عہدہ پر ہوتے ہوئے فتاویٰ کی تصحیح وفتاویٰ تحریر فرماتے ہیں۔تصحیح شدہ اور لکھے ہوئے فتاویٰ کی تعداد ایک لاکھ سے کافی زیادہ ہے۔

تصانیف

1)  تصوف کی حقیقت اور اس کا طریقہ کار

2) عقیدہ امامت  اورحدیث غدیر

3) کھیل کود کی شرعی حیثیت

4) علم وحلم

5) منتخب ملوفاظات مجدد الف ثانی

6) حج آسان ہے

7) ائمہ اربعہ کے دربار میں

8) ارشادات امام ربانی

9)اسباب اختیارکرکےاللہ پر بھروسہ رکھیں

10)اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا طریقہ

11) احباب کےلئے مضامین تصوف

12)بیان التفسیر(30، تیسویں پارہ کی تفسیر)

13)بیعت علی التقوی

14)تفسیر سورہ الملک

15)تصوف کی حقیقت

16)توہین رسالت ﷺ اور اُسکی سزا

17)خودکشی حرام موت

18)دینی احکام میں ترتیب کی رعایت

19)دینداری میں غلو سے بچئے

20)دنیا دارالاسباب ہے

21)درس بخاری

22)دینی سیاسی تحریکات اور حضرت تھانویؒ

23)رمضان المبارک کے بعدلائحہ عمل

24)صفت احسان کیا ہے؟

25) طالب علم کیا نیت رکھے

26)عالم بننا آسان نہیں

27)عہدہ اور منصب امانت ہیں۔

28) علمائےکرام کی ذمہ داریاں

29)نمازِ فجر کا اہتمام

30)نماز اور نماز کے مسنون اذکار

31)رمضان المبارک کے معمولات

32)حرام مال سے بچیں

33) یہ میری سنت ہے

اولاد

       حضرت مولانامفتی محمود اشرف  صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہکےچار بیٹے(عزيز القدر حافظ قاری مولوی حماد اشرف عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمہ واسعۃ ،سجاد اشرف عثمانی ،عباداشرف عثمانی  اور  ورّاد اشرف عثمانی )اور ایک بیٹی ہیں جو کہ مولانا محمد ناظم اشرف صاحب(استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور) کی اہلیہ ہیں۔

البتہ23 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 6 اگست 2018ئ کوحضرت مولانامفتی محمود اشرف  صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کی زندگی کا بڑا سانحہ يہ ہوا کہ حضرت مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ بڑے بيٹے عزيز القدر حافظ قاری مولوی حماد اشرف عثمانی سلمہ چند يوم کی علالت کے بعد لاہور ميں دُنيا سے رخصت ہوگئے، جبکہ حضرت مفتی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ کراچی ميں تھے،لاہور جاکر مرحوم کے جنازہ ميں شريک ہوئے ، اِنا للہ واِنا اليہ راجعون۔ مرحوم مولانا قاری حماد اشرف عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے حفظ ِ قرآن،تجويد اور ابتدائی تعليم جامعہ دارالعلوم کراچی ميں حاصل کی پھر آگے کی تعليم دورہ حديث تک جامعہ اشرفيہ لاہور ميں حاصل کی۔جامعہ اشرفيہ ميں تدريس کا بھی موقعہ ملا، بچوں کے لئے اردو انگريزی کی انتہائی عمدہ مفيد کتابيں مرتب کرنے اور طبع کرنے کی انہيں سعادت ملی جو اُن کے لئے صدقہ جاريہ ہيں۔

اللھم اغفرلحماد اشرف عثمانی وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ واغسلہ بالما۶ والثلج والبرد ونقہ من الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس وباعد بینہ وبین خطایاہ کماباعدت بین المشرق والمغرب اللھم اعذہ من عذاب النار وعذاب القبر،آمین ثم آمین.